124

نور کا اتمام

خلوت کی گھڑی گزری جلوت کی گھڑی آئی چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوشِ سحاب آخر (علامہ اقبال) اس حقیقت سے بے خبری بیگانے کے لیے ہے کہ چراغ کا تمام نور اپنے پروانے کے لیے ہے شاید رات کا کوئی پہر ہے کہ جو پروانے کو خود شمع بنانے کے لیے ہے آپ کو بے خبر تو نہیں رکھا کہ حقیقت تو سب کو بتانے کے لیے ہے




    Waseem Abbas
    Lahore, Pakistan
    [email protected]
    facebook.com/waseem1514
    x.com/waseem1572
    www.shafialkafi.com