127 |
مرکز |
اے میرے مضطر و بے چین دل تیری انتہا نہیں یہ پیکر ِآب و گل جب سے میرے پہلو سے عشق جدا ہوا ہے تب سے حیات مثلِ پروانہ چراغ محفل دورِ حاضر نے تجھے بے وقعت بنا رکھا ہے حالانکہ تجھ سے جوش و جنون و سرورِ کامل تیرے بغیر تصورِ حیات پر سوز ناممکن کہ کتاب اللہ میں صرف تو ہی بار امانت کا حامل