158 |
پروانہ |
اے شمع روشن کے جانباز پروانے تجھ سے مانوس ہیں بہت عاشق دیوانے تیرے دل میں روشنی کی آرزو کہ اسی آرزو میں گزرے ہیں میرے زمانے شمع سے تیری نور و نار کی طلب لاحاصل مگر عاشقِ رب کے لیے نورِ مطلق کے پیمانے تیرے ذوق و شوق کی اسے کیا پروا کہ اس طلب و آرزو کو ایک شمع محفل کیا جانے