260 |
شعور و آگاہی |
میرے کلام کو شاعری مت سمجھو یہ شعور و آگاہی ہے اسے ساحری مت سمجھو بدن کی آرائش میں وہ جمال کہاں کہ روح کی زیبائش کو ظاہری مت سمجھو فرنگی جمہوریت اک دیو بے زنجیر ہے کہ اس فتنہ کو سرسری مت سمجھو احسان جتلا کر جو تمہیں اذیت دے تو ایسے کسی فعل کو اللہ کی پیروی مت سمجھو