266 |
اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ |
مردِ خود آگاہ کو میدان کا ساماں دے دے خاک کے پیکر کو اب نور سے پُر جاں دے دے جب تلک مجھ پہ تیرے ابر کی رحمت نہ ہو تب تلک اشک سے لبریز مجھے آہ و فغاں دے دے زندگانی کو میرے صبر کے خَم و پیچ کے بعد خانہ دل میں میرے مہر و محبت کا جہاں دے دے